Coronavirus News

کیا ناک کی سوزش کو نیٹی پاٹ کے ساتھ دھونا محفوظ ہے؟


Image

woman holding a Neti Pot to one nostril while water flows out of her other nostril

English

لمبی نالی والی چائے کی کیتلی بہت سے گھروں میں بند ناکوں کو کھولنے اور لوگوں کو بہتر طور پر سانس لینے میں مددگار بن چکی ہے۔

ناک کو دھونے والے دیگر  آلات کے ساتھ ساتھ، یہ آلات ، جنھیں عام طور پر نیٹی پاٹ کے طور پر جانا جاتا ہے، سیلائن یا نمک والا پانی استعمال کرتے ہیں، جس کے ذریعےناک کی سوزش، سردی کے زکام اور الرجی کا علاج کیا جاتا ہے۔ انھیں خشک اندرونی  ہوا سے متاثرہ، ناک اور گلے کی نالیوں کو تر کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ مگر احتیاط ضروری ہے۔ نیٹی پاٹ اور  ناک کو دھونے والے دیگر  آلات کے غلط استعمال سے آپکو  انفیکشن ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

ناک کو دھونے والے  آلات، جن میں نیٹی پاٹ، بلب سرنج، نچوڑنے والی بوتل اور بیٹری سے چلنے والے آلات بھی شامل ہیں، عام طور پر محفوظ  اور کارآمد ہوتی ہیں جب انھیں احتیاط کے ساتھ استعمال اور صاف کیا جائے، ایسا کہنا ہے ایرک اے مان ایم ڈی پی ایچ ڈی کا، جو ایف ڈی اے کے ایک ڈاکٹر ہیں۔

محفوظ استعمال  کا کیا مطلب ہے؟ سب سے پہلے، صرف جراثیم سے پاک کیا ہوا  ڈسٹلڈ پانی یا پہلے سے ابالا ہوا پانی ہی استعمال کیا جائے۔

نل کا پانی ناک کی نالی کو دھونے کے لیے محفوظ نہیں ہے کیونکہ اسے مناسب طور پر جراثیم سے پاک نہیں کیا جاتا۔ نل کے پانی میں کہیں کہیں بہت کم تعداد میں جرثومے پائے جاتے ہیں، جیسے کہ بیکٹیریا اور پروٹوزوا جن میں امیبا شامل ہیں، جنھین نگلنا تو محفوظ ہو گا کیونکہ معدے کا تیزاب انھیں مار ڈالے گا۔ مگر آپکے ناک میں، یہ جرثومے ناک اور گلے کی نالیوں میں زندہ رہ سکتے ہیں اور ممکنا طور پر انفیکشن کا باعث بن سکتے ہیں۔ کچھ کمیاب صورتوں میں تو یہ جان لیوا بھی ہو سکتے ہیں۔ بمطابق  بیماریوں پر قابو پانے اور روک تھام کے ادارے کے (سی ڈی سی)۔

کس قسم کا پانی استعمال کے لیے محفوظ ہے؟

  • جراثیم سے پاک کشید کیا ہوا پانی، جو آپ دکان سے خرید سکتے ہیں۔ اس پر ڈسٹلڈ یا سٹیرائل کا لیبل لگا ہو گا۔

  • ابال کر ٹھنڈا کیا ہوا پانی، جسے تین سے پانچ منٹ تک ابالا گیا ہو، پھر اتنا ٹھنڈا کیا جائے کہ نیم گرم ہو جائے۔

    پہلے سے ابالا ہوا پانی بھی ایک صاف اور بند برتن میں چوبیس گھنٹوں تک رکھا جا سکتا ہے۔

  •  ایسا پانی جسے ایک ایسے فلٹر سے گزارا گیا ہو جو ممکنہ طور پر انفیکشن پیدا کرنے والے جرثوموں کو پکڑ سکتا ہو۔ سی ڈی سی کے پاس ایسے فلٹر چننے کی معلومات موجود ہیں۔

ناک کو دھونے والے  آلات کا محفوظ استعمال

دوسرے، یہ یقینی بنائیں کہ آپ ہدایات پر عمل کریں۔

“۔سیلائن کو ناک میں ڈالنے کے مختلف طریقے ہیں۔ ناک میں سپرے کرنے والی بوتلیں ایک نرم پھوار پہنچاتی ہیں اور ناک اور گلے کی  خشک نالیوں کو نم رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ مگر ناک کو دھونے والے  آلات، ناک کو دھونے اور بلغم کو صاف کرنے میں، ارجی پیدا کرنے والے جرثوموں اور بیکٹیریا کو مارنے کے لیے زیادہ بہتر ہیں۔ مان کا کہنا ہے۔

۔ناک کو دھونے والے  آلات کے ساتھ دی گئی معلومات، اس کے استعمال اور احتیاط کے متعلق  زیادہ بہتر تفصیل فراہم کر سکتی ہیں۔ یہ تمام آلات کم و بیش ایک طرح سے ہی کام کرتے ہیں:

  • ۔سنک پر جھک کر، اپنے سر کو ایک طرف جھکا لیں، کہ آپکی پیشانی اور ٹھوڑی ایک برابر ہو تا کہ پانی آپکے حلق میں نہ چلا جائے۔ نچلے نتھنے سے خارج ہو جائے۔

  • اپنے کھلے منہ سے سانس لیتے ہوئے، سیلائن سے بھرے ہوئے برتن کی نالی کو اپنے اوپری نتھنے میں داخل کریں تا کہ پانی آپکے

  • ۔اپنے نتھنے صاف کریں۔ پھر اپنے سر کو دوسری طرف جھکا کر اسی عمل کو دوہرائیں۔

۔ناک کی نالیوں کو دھونے سے مٹی، پولن اور دیگر گندگی کے ساتھ ساتھ بلغم بھی ڈھیلا ہو کر دھل جاتا ہے۔ اس سے ناک اور گلے میں ہونے والی سوزش کے علاوہ زکام اور فلو سے ہونے والی تکلیف کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے۔ سادہ پانی سے آپکے ناک میں تکلیف ہو سکتی ہے۔ سیلائن، پانی کو ناک کی نازک جھلیوں میں بالکل نہ ہونے والی یا  کم جلن کے ساتھ گزرنے کے قابل بناتا ہے۔

۔اور اگر آپکا جسمانی دفاعی نظام صحیح طرح کام نہیں کر رہا تو کوئی بھی ناک کو دھونے والے  آلات کو استعمال کرنے سے پہلے اپنے معالج سے رابطہ کریں۔

ان آلات کا استعمال اور احتیاط کے لیے:

  • اپنے ہاتھ دھو کر خشک کریں۔

  • یقینی بنائیں کہ آلہ صاف اور مکمل خشک ہے۔

  • سیلائن سے دھونے والا مائع تیار کریں، یا تو آلے کے ساتھ دیا ہوا پہلے سے تیار کردہ محلول یا پھر جو آپنے خود تیار کیا ہے۔

  • آلے کے بنانے والوں کی ہدایات پر عمل کریں۔

  • آلے کو دھو لیں اور اسکو اندر سے کاغذ کے تولیے سےخشک کریں یا پھر استعمال کے دوران ہوا سے خشک ہو جانے دیں۔

اپنے معالج یا فارمسسٹ سے مشورہ کریں اگر آپکے آلے پر واضح ہدایات موجود نہیں ہیں کہ اسے کیسے استعمال کرنا ہے یا اگر آپکے ذہن میں کچھ سوالات ہیں۔

ناک کو دھونے والے  آلات اور بچے

آخر میں، یہ یقینی بنائیں کہ آلہ استعمال کرنے والے کی عمر کے مطابق ہے۔ کچھ بچوں میں ناک کی الرجی دو سال کی کم عمر میں بھی ہو سکتی ہے اور وہ یہ آلہ اس وقت بھی استعمال کر سکتے ہیں، اگر ماہرِ امراضِ اطفال اسے تجویز کریں۔مگر بہت کم عمر بچے اس طریقہ کار کو برداشت نہ کر پائیں گے۔

چاہے بڑے ہوں یا بچے، اپنے معالج سے مشورہ کریں   تا کہ یہ معین کیا جا سکے کہ ناک کو دھونا آپکی صورتِحال میں محفوظ اور فائدہ مند ہے۔ اگر مرض کی علامات بہتر نہیں ہوتیں یا بیماری ناک کو دھونے کے بعد مزید بڑھ جاتی ہے تو اپنے معالج کے پاس واپس جائیں، خاص طور پر تب، جب آپکو  ناک دھونے کے دوران بخار، ناک سے خون آنے یا سر میں درد ہونے کی شکایت ہو۔

صحتِ عامہ کے معالج اور مریض ناک کو دھونے والے  آلات کے متعلق مسائل سے ایف ڈی اے کے حفاظتی معلومات اور منفی واقعات کو رپورٹ کرنے کے پروگرام کو آگاہ کر سکتے ہیں۔  

 



Source link

Post Comment